6 جولائی 2012 - 19:30

سنيچر سات جولائي کا دن ليبيا عوام کي زندگي کا اہم ترين دن شمار ہوتا ہے کيونکہ اس دن معمرقذافي کي بياليس سالہ آمريت کے خاتمے کے بعد پہلي بار عوام ، پارليمنٹ کے دوسو اراکين کے انتخاب کے لئے پولنگ اسٹيشنوں پر گئے -

ابنا: ليبا کي ساٹھ لاکھ آبادی ميں سے ستائيس لاکھ افراد نے ووٹر لسٹوں ميں اپنے ناموں کا اندارج کرايا تھا-انتخابات ميں ڈھائي ہزار آزاد اميدوار اور بارہ سو اميدوار مختلف سياسي جماعتوں اور ديگر تنظيموں سے تعلق رکھتے ہيں جن ميں چھے سو انتيس خواتين بھي شامل ہيں-

      ليبیا کے قانون کے مطابق پارليمنٹ کي دوسو نشستوں ميں سے ايک سو بيس نشستيں آزاد اميدواروں کو دي جائيں گي جبکہ اسي نشستيں سياسي جماعتوں کے لئے مختص کي گئي ہيں-

علاوہ ازيں  ليبیا کے آئين ميں واضح کيا گيا ہے کہ ملک کے مشرقي علاقوں کے لئے ساٹھ، مغربي علاقوں کے لئے ايک سو دو  اور باقي ديگر علاقوں کے اڑتيس پارلماني نشستيں مختص ہيں-  نشستوں کي اس تقسيم نے ملک ميں سخت کشيدگي کا ماحول پيدا کرديا ہے  اور حاليہ چند روز کے دوران ليبيا کے مشرقي علاقوں ميں مظاہرے بھي ہوئے ہيں-

مشرقي علاقوں کے لوگ پارلمينٹ ميں مساوي نمائندگي ديئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہيں- اس بات ميں کوئي شک نہيں ہے کہ پارليماني نشستوں کي موجودہ تقسيم ملک کے لئے مشکلا ت کا سبب بن سکتي ہے- خاص کر اس لئے بھي کہ مشرقي علاقے ميں عليحدگي پسندانہ سوچ مغربي علاقوں کے مقابلے ميں کم نہيں ہے اور يہ بات ليبيا کے مستقبل کے لئے سنگين خطرہ بني ہوئي ہے- دوسري جانب ملک کے سياسي دھڑے اور جماعتيں ملک کے اقتدار ميں اپنا حصہ طلب کرتي رہي ہيں -

   ليبيا کي تمام سياسي جماعتيں پارليماني انتخابات کو ملک کے نئے سيٹ اپ ميں داخل ہونے کا بہترين موقع سمجھ رہي ہيں- اگرچہ ليبيا کے پارليماني انتخابات ميں ايک سو چاليس  سے زيادہ سياسي پارٹيوں نے اپنے اميدوار نامزد کئے ہيں ليکن سياسي حلقوں کا خيال ہے اسلامي رجحان رکھنے والي جماعتوں کو دوسروں پر برتري حاصل رہے گي-

ايک بات ليبيا کے انتحابات کے حوالے سے  بہت اہم ہے  جس سے انکار نہيں کيا جاسکتا کہ ان انتخابات پر قبائيلي نظام اور قوميتي تعصبات کا سايہ پور  قوت کے ساتھ موجود ہے- درحقيقت کہا جاسکتاہے  کہ قبائيلي تعصبات ہي ليبيائي عوام کے لئے اميدواروں کے انتخاب کا اصل معيار ہيں - بنابرايں ليبيا کي نئي پارليمنٹ کي ترکيب کيا ہوگي يہ کہنا في الحال بہت مشکل ہے خاص کر اس لئے بھي کہ نئے ليبيا کے اداروں سے بڑے قبائيلي رہنماؤں کو باہر نکالنا تقريبا ناممکن ہے-

اس کے باوجود ايک بات پوري طرح واضح ہے کہ انتخابات کے نتيجے ميں ليبيا باقائدہ طور پر ايک حکومت کي تشکيل کے مرحلے ميں داخل ہوجائے گا کيونکہ پارلمينٹ يا کانگريس کو نہ صرف يہ کہ قانون سازي کا اختيار حاصل ہے بلکہ ملک کے  وزيراعظم کا تعين کرنا بھي اسي ادارے کي ذمہ داري ہے-

پارليمنٹ يا قومي کانگريس کے پہلے اجلاس ميں ، قومي عبوري کونسل بھي  اقتدار باضابطہ طور پر اس کے حوالے کردے گي اور يوں ليبيا ميں نئي سياسي زندگي کا آغاز ہوجائے گا -

.......

/169